2
یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں
3
شاید تو اپنی جان ہلاک کرنے والا ہے اس لیے کہ وہ ایمان نہیں لاتے
4
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایسی نشانی نازل کریں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھک جائیں
5
اور ان کے پاس رحمنٰ کی طرف سے کوئی نئی بات نصیحت کی ایسی نہیں آئی کہ وہ اس سے منہ نہ موڑ لیتے ہوں
6
سو یہ جھٹلاتو چکے اب ان کے پاس اس چیز کی حقیقت آئے گی جس پر ٹھٹھا کیا کرتے تھے
7
کیا وہ زمین کو نہیں دیکھتے ہم نے اس میں ہر ایک قسم کی کتنی عمدہ چیزیں اُگائی ہیں
8
البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
9
اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
10
اور جب تیرے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ اس ظالم قوم کے پاس جا
11
فرعون کی قوم کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں
12
عرض کی اے میرے رب میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جھٹلا دیں
13
اور میرا سینہ تنگ ہوجائے اور میری زبان نہ چلے پس ہارون کو پیغام دے
14
اور میرے ذمہ ان کا ایک گناہ بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار نہ ڈالیں
15
فرمایا ہر گز نہیں تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں
16
سو فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم پروردگار عالم کا پیغام لے کر آئے ہیں
17
یہ کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے
18
کہا کیا ہم نےتمہیں بچپن میں پرورش نہیں کیا اورتو نے ہم میں اپنی عمر کے کئی سال گزارے
19
اور تو اپنا وہ کرتوت کر گیا جوکر گیا اور تو ناشکروں میں سے ہے
20
کہا جب میں نے وہ کام کیا تھاتو میں بےخبر تھا
21
پھر میں تم سے تمہارے ڈر کے مارے بھاگ گیا تب مجھے میرے رب نے دانائی عطا کی اور مجھے رسول بنایا
22
اور یہ احسان جو تو مجھ پر رکھتا ہے اسی لیے تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
23
فرعون نے کہا رب العالمین کیا چیز ہے
24
فرمایا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تمہیں یقین آئے
25
اپنے گرد والوں سے کہا کیا تم سنتے نہیں ہو
26
فرمایا تمہارا ور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے
27
کہا بے شک تمہارا رسول جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے
28
فرمایا مشر ق مغرب اور جو ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم عقل رکھتے ہو
29
کہا اگر تو نے میرے سوا اور کوئی معبود بنایا تو تمہیں قید میں ڈال دوں گا
30
فرمایا اگرچہ میں تیرے پاس ایک روشن چیز لے آؤں
Sonraki 30 ayet →