1
وہ پاک ہے جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے والا دیکھنے ولا ہے
2
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ
3
اے ان کی نسل جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا بے شک وہ شکر گزار بندہ تھا
4
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بات بتلا دی تھی کہ تم ضرور ملک میں دو مرتبہ خرابی کرو گے اوربڑی سرکشی کرو گے
5
پھر جب پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے بھیجے پھر وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے اور الله کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا
6
پھر ہم نے تمہیں دشمنوں پر غلبہ دیا اور تمہیں مال اور اولاد میں ترقی دی اور تمہیں بڑی جماعت والا بنا دیا
7
اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لیےکی اور اگر برائی کی تو وہ بھی اپنے ہی لیےکی پھر جب دوسرا وعدہ آیا تاکہ تمہارے چہروں پر رسوائی پھیر دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح پہلی بار گھس گئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں اس کا ستیاناس کر دیں
8
تمہارا رب قریب ہے کہ تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور ہم نے دوزخ کو کافروں کے لیے قید خانہ بنایا ہے
9
بے شک یہ قرآن وہ راہ بتاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتاہے ان کے لیے بڑا ثواب ہے
10
اور یہ بھی بتاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے
11
اور انسان برائی مانگتا ہے جس طرح وہ بھلائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز ہے
12
اور ہم نے رات اور دن کے دو نمونے بنا دیے پھر رات کے نمونے کو دھندلا کر دیا اور دن کا نمونہ نظر آنے کے لیے روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لو اور ہم نے ہر چیز کی تفصیل کر دی
13
اور ہم نے ہر آدمی کا نامہ اعمال اس کی گردن کےساتھ لگادیا ہے اور قیامت کے دن ہم اس کا نامہ اعمال نکال کر سامنے کردیں گے
14
اپنا نامہ اعمال پڑھ لے آج اپنا حساب لینے کے لیے تو ہی کافی ہے
15
جو سیدھے راستے پر چلا تو اپنے ہی لیے چلا اور جو بھٹک گیا تو بھٹکنے کا نقصان بھی وہی اٹھائے گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے
16
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے دولتمندوں کو کوئی حکم دیتے ہیں پھر وہ وہاں نافرمانی کرتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ہم اسے برباد کر دیتے ہیں
17
اور نوح کے بعد ہم نےقوموں کے کئی دور ہلاک کر دیئے ہیں اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کا جاننے والا دیکھنے والا کافی ہے
18
جو کوئی دنیا چاہتا ہے تو ہم اسے سردست دنیا میں سے جس قدر چاہتے ہیں دیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہوکر رہے گا
19
اورجو آخرت چاہتا ہے اوراس کے لیے مناسب کوشش بھی کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہو گی
20
ہم ہر فریق کو اپنی پروردگاری بخششوں سے مدد دیتے ہیں ان کو بھی اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں
21
دیکھو ہم نے ایک کو دوسرے پر کیسی فضیلت دی ہے اور آخرت کے تو بڑے درجے اوربڑی فضیلت ہے
22
الله کے ساتھ اور کوئی معبود نہ بنا ورنہ تو ذلیل بے کس ہو کر بیٹھے گا
23
اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو
24
اوران کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سےپالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما
25
جو تمہارے دلوں میں ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے اگر تم نیک ہو گے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے
26
اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو
27
بے شک بیجا خرچ کرنے والے شیطانو ں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکر گزار ہے
28
اوراگر تجھے اپنے رب کے فضل کے انتظار میں کہ جس کی تجھے امید ہے منہ پھیرنا پڑے تو ان سے نرم بات کہہ دے
29
اور اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ بندھا ہوانہ رکھ اور نہ اسے کھول دے بالکل ہی کھول دینا پھر تو پشیمان تہی دست ہو کر بیٹھ رہے گا
30
بے شک تیرا رب جس کے لئے چاہے رزق کشادہ کر تا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے بے شک وہ اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا ہے
Sonraki 30 ayet →