1
یہ ایک کتا ب ہے ہم نے اسے تیری طرف نازل کیا ہے تاکہ تو لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف غالب تعرف کیے ہوئے راستہ کی طرف نکالے
2
یعنی الله جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور کافروں پر افسوس کہ انہیں سخت عذاب ہونا ہے
3
جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کرتے ہیں اور الله کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
4
اور ہم نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکے پھر الله جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اوروہ غالب حکمت والا ہے
5
اورالبتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دےکر بھیجا تھا کہاپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال اورانہیں الله کے دن یاد دلا بے شک اس میں ہر ایک صبر شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں ہیں
6
اورجب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا الله کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تمہیں فرعون کی قوم سے چھڑا یا وہ تمہیں برا عذاب چکھاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اسمیں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی
7
اور جب تمہارے رب نے سنا دیا تھا کہ البتہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے
8
اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے کفر کرو گے تو الله بے پروا تعریف کیا ہوا ہے
9
کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جوتم سے پہلے تھے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اورجو ان کے بعد ہوئے الله کےسوا جنہیں کوئی نہیں جانتا ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے پھرانہوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لوٹائے اور کہا ہم نہیں مانتے جو تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے اور جس دین کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہمیں تو اس میں بڑا شک ہے
10
ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں الله میں شک ہے جس نے آسمان او زمین بنائے وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے کچھ گناہ بخشے اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے انہوں نے کہا تم بھی تو ہمارے جیسے انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان چیزوں سے روک دو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے رہے سو کوئی کھلا ہوامعجزہ لاؤ
11
ان سے ان کے رسولوں نے کہا ضرور ہم بھی تمہارے جیسے ہی آدمی ہیں لیکن الله اپنے بندوں میں جس پر چاھتا ہے احسان کرتا ہے اور ہمارا کام نہیں کہ ہم الله کی اجازت کے سوا تمہیں کوئی معجزہ لا کر دکھائیں اور ایمان والوں کا بھروسہ اللهہی پر ہونا چاہیئے
12
اور ہم کیوں الله پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اسی نے ہمیں (سیدھے) راستوں کی راہ نمائی کی ہے اور ہم ضرور صبر کریں گے اس ایذاپر جو تم ہمیں دیتے ہو اور توکل کرنے والوں کو الله ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے
13
اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے یا ہمارے دین میں لوٹ آؤ تب انہیں ان کے رب نے حکم بھیجا کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دیں گے
14
اور ان کے بعد اس زمین میں تمہیں آباد کر دیں گے یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور جس نے میرے عذاب سے خوف کھایا
15
اور پیغمبروں نے فیصلہ چاہا اور ہر ایک سرکش ضدی نامراد ہوا
16
اوراس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا
17
جسے گھونٹ گھونٹ پیے گا اور اسے گلےسے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا اوراس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا
18
ان کی مثال جنہوں نے اپنے رب سے انکار کیا ایسی ہے کہ ان کے اعمال گویا راکھ ہیں کہ جیسی آندھی کے دن ہوا اڑا کر لے گئی ہو جوکچھ انہوں نے کمایا تھا اس میں کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہ رہا ہویہ بھی بڑی دو رکی گمراہی ہے
19
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ الله نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے
20
اور یہ الله پر کچھ مشکل نہیں ہے
21
اوریہ سب الله کے سامنے کھڑیں ہوں گے تب کمزور متکبروں سے کہیں گے ہم تو تمہارے تابع تھے سوہمیں الله کے عذاب سے کچھ بچاؤ گے وہ کہیں گے اگر ہمیں الله ہدایت کرتا تو ہم تمہیں ہدایت کرتے اب ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں
22
اور جب فیصلہ ہو چکے گا تو شیطان کہے گا بےشک الله نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اورمیں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا پھر میں نے وعدہ خلافی کی اور میرا تم پر اس کے سوا کوئی زور نہ تھا کہ میں نے تمہیں بلایا پھر تم نے میری بات کو مان لیا پھر مجھے الزام نہ دو اور اپنے آپ کو الزام دونہ میں تمہارا فریادرس ہوں اور نہ تم میرے فریاد رس ہو میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس سےپہلے مجھے شریک بناتے تھے بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے
23
اور جو لوگ ایمان لائے تھے اورنیک کام کیے تھے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے آپس میں دعائے خیر ان کی سلام ہو گی
24
کیاتو نےنہیں دیکھا کہ الله نے کلمہ پاک کی ایک مثال بیان کی ہے گویا وہ ایک پاک درخت ہے کہ جس کی جڑ مضبوط اور اس کی شاخ آسمان ہے
25
وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل لاتا ہے اور الله لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں
26
اور ناپاک کلمہ کی مثال ایک ناپاک درخت کی سی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے اسے کچھ ٹھیراؤ نہیں ہے
27
الله ایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں سچی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالمو ں کو گمراہ کر تا ہے اور الله جوچاہتا ہے کرتا ہے
28
کیاتو نے انہیں نہیں دیکھا کہ جنہوں نے الله کی نعمت کےبدلے میں ناشکری کی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا
29
جو دوزخ ہے اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے
30
اور لوگو ں نے الله کی راہ سے بہکانے کے لیے شریک بنا رکھے ہیں کہہ دو نفع اٹھا لو پھر تمہیں آگ کی طرف لوٹنا ہے
Sonraki 22 ayet →