1
یہ حکمت والی کتا ب کی آیتیں ہیں
2
کیا اس بات سے لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائے اور جو ایمان لائیں انہیں یہ خوشخبری سنائے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں پہنچ کر پورا مرتبہ ملے گا کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص صریح جادوگر ہے
3
بے شک تمہارا رب الله ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر قائم ہوا وہی ہر کام کا انتظام کرتا ہے اس کی اجازت کے سوا کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے یہی الله تمہارا پروردگار ہے سو اسی کی عبادت کرو کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے
4
تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے الله کا وعدہ سچا ہے وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اورنیک کام کیے انہیں انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور جن لوگو ں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ہوگا اوران کے کفر کے سبب سے دردناک عذاب ہوگا
5
وہی ہے جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو منور فرمایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو یہ سب کچھ الله نے تدبیر سے پیدا کیا ہے وہ اپنی آیتیں سمجھداروں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
6
رات اور دن کے آنے جانے میں اور جو چیزیں الله نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں ان میں ان لوگو ں کے لیے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں
7
البتہ جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیاکی زندگی پر خوش ہوئے اور اسی پر مطمئن ہو گئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں
8
ان کا ٹھکانا آگ ہے بسبب اس کے جو کرتے تھے
9
بے شک جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے نیک کام کیے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کے سبب ہدایت کرے گا ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی
10
اس جگہ ان کی دعا یہ ہو گی کہ اے الله تیری ذات پاک ہے اوروہاں ان کا باہمی تحفہ سلام ہوگا اور ان کی دعا کا خاتمہ اس پر ہوگا سب تعریف الله کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے
11
اور اگر الله لوگوں کو برائی جلد پہنچا دے جس طرح وہ بھلائی جلدی مانگتے ہیں تو ان کی عمر ختم کر دی جائے سو ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جنہیں ہماری ملاقات کی امید نہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں
12
اورجب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے اور بیٹھے اورکھڑے ہونے کی حالت میں ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے اس تکلیف کودور کر دیتے ہیں تو اس طرح گزر جاتا ہے گویا کہ ہمیں کسی تکلیف پہنچنے پر پکارا ہی نہ تھا اس طرح بیباکوں کو پسند آیا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں
13
اور البتہ ہم تم سے پہلے کئی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جب انہوں نے ظلم اختیار کیا حالانکہ پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے تھے اور وہ ہر گز ایمان لانے والے نہ تھے ہم گناہگارو ں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
14
پھر ہم نے تمہیں ان کے بعد زمین میں نائب بنایا تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو
15
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں وہ لوگ کہتے ہیں جنہیں ہم سے ملاقات کی امید نہیں کہ اس کے سوا کوئی قرآن لے آ یا اسے بدل دے تو کہہ دے میرا کام نہیں کہ اپنی طرف سے اسے بدل دوں میں اس کی تابعداری کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جائے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں توبڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
16
کہہ دو اگر الله چاہتا تو میں اسے تمہارےسامنے نہ پڑھتا اورنہ وہی تمہیں اس سے خبردار کرتا کیوں کہ اس سے پہلے تم میں ایک عمر گذار چکا ہوں کیا پھر تم نہیں سمجھتے
17
پھر اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو الله پر بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے بے شک گناہگاروں کابھلا نہیں ہوتا
18
اور الله کے سوا اس چیز کی پرستش کرتے ہیں جونہ انہیں نقصان پہنچا سکے اورنہ انہیں نفع دے سکے اور کہتے ہیں الله کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہیں کہہ دو کیا تم الله کو بتلاتے ہو جو اسے آسمانوں اور زمین میں معلوم نہیں وہ پاک ہے اوران لوگو ں کے شرک سے بلند ہے
19
اوروہ لوگ ایک ہی امت تھے پھر جدا جدا ہو گئے اور اگر ایک بات تمہارے پرودگار کی طرف سے پہلے نہ ہو چکی ہو تی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کر تے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا ہے
20
اور کہتے ہیں اس پر اس کے رب سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری سو تو کہہ دے کہ غیب کی بات الله ہی جانتا ہے سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
21
اورجب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی تو وہ ہماری آیتو ں کے متعلق حیلے کرنے لگتے ہیں کہہ دو کہ الله بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے بے شک ہمارے فرشتے تمہارے سب حیلو ں کو لکھ رہے ہیں
22
وہ وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو اور وہ کشتیاں لوگو ں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کرچلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے ان پر لہریں چھانے لگتی ہیں اور و ہ خیال کرتے ہیں کہ بےشک وہ لہروں میں گھر گئے ہیں تو سب خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچادے تو ہم ضرور شکر گزار رہیں گے
23
پھر جب الله انہیں نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں اے لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری جانو ں پر ہی پڑے گا دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو پھر ہمارے ہاں ہی تمہیں لوٹ کر آناہے پھر ہم تمہیں بتلادیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
24
دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ اسے ہم نے آسمان سے اتارا پھراس کے ساتھ سبزہ مل کر نکلا جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین سبزے سے خوبصورت اور آراستہ ہو گئی اورزمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر بالکل قابض ہو چکے ہیں تو اس پر ہماری طرف سے دن یا رات میں کوئی حادثہ آ پڑا سو ہم نے اسے ایسا صاف کر دیا کہ گویا کل وہا ں کچھ بھی نہ تھا اس طرح ہم نشانیوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور لوگو ں کے سامنے جو غور کرتے ہیں
25
اور الله سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے
26
جنہوں نے بھلائی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور زیادتی بھی اور ان کے منہ پر سیاہی اور رسوائی نہیں چڑھے گی وہ بہشتی ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے
27
اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا کہ ان پر ذلت چھائے گی اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا گویا کہ ان کے مونہوں پر اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑدئے گئے ہیں یہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
28
اور جس دن ہم ان سب کو جمع کرینگے پھر مشرکوں سے کہیں گے تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ کھڑے رہو تو ہم ان میں پھوٹ ڈال دینگے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے
29
سو اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے کہ ہمیں تمہاری عبادت کی خبر ہی نہ تھی
30
اس جگہ ہر شخص اپنے پہلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور یہ لوگ اللہ کی طرف لوٹائے جائینگے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور جو جھوٹ وہ باندھا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا
Sonraki 30 ayet →